اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یدیعوت آحارانوت نے اپنی خصوصی اشاعت میں اسرائیل کے اہم سیاسی رہنماؤں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے ملک کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کی حکمت عملی کے بارے میں گفتگو کی ہے۔
اخبار نے اپنی تفصیلی رپورٹ کے آغاز میں لکھا کہ 7 اکتوبر کے طوفان الاقصیٰ آپریشن سے پہلے اسرائیلی قیادت کے ایک بڑے حصے کو یہ گمان تھا کہ ملک کے حالات مسلسل بہتر ہو رہے ہیں۔ اسرائیل نے کئی عرب ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرلیے تھے جبکہ سعودی عرب کے ساتھ بھی تعلقات معمول پر لانے کے لیے بات چیت آگے بڑھ رہی تھی۔
تاہم 7 اکتوبر کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی اور گزشتہ چند برسوں کے دوران اسرائیل کو پہلے سے کہیں زیادہ سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اخبار کے مطابق جنگ نے اس خطرے کو نمایاں کردیا جس سے اسرائیلی قیادت پہلے ہی واقف تھی، لیکن اسے نظر انداز کرتی رہی۔ اسرائیل جب خطے میں ہر قیمت پر مفاہمت کی پالیسی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھا، اسی دوران ایران مسلسل اپنی طاقت بڑھا رہا تھا اور اسرائیل کے گرد مزاحمتی قوتوں کا دباؤ مضبوط ہوتا جا رہا تھا۔
یدیعوت آحارانوت نے اعتراف کیا کہ 7 اکتوبر کے بعد اسرائیل کی مفاہمت پر مبنی پالیسی عملاً ناکام ہوگئی اور اس کے بعد اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع پہلے سے کہیں زیادہ خونریز ہوگیا۔
اخبار نے مزید لکھا کہ غزہ جنگ کے نتیجے میں اسرائیل کو عالمی سطح پر شدید تنقید اور مخالفت کا سامنا ہے اور دنیا کے کئی حصوں میں اس کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
رپورٹ میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ ایسے خطے میں جہاں اسرائیل کو اب بھی وسیع پیمانے پر قبول نہیں کیا جاتا، اسرائیلی قیادت اس حقیقت سے نمٹنے کے لیے کیا حکمت عملی رکھتی ہے۔
یدیعوت آحارانوت کے مطابق اسرائیل کے لیے اب بنیادی سوال یہ نہیں رہا کہ خطے میں حالات پہلے جیسے کیسے ہوں گے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی علاقائی مخالفت، ایران کی طاقت اور فلسطین کے مسئلے کے درمیان اسرائیل اپنے مستقبل کا راستہ کیسے متعین کرے گا۔
آپ کا تبصرہ